خط بنام دارا شکوہ
! محبی محمد دارا شکوہ !دروت ءُ درھبات آپ سوچ رہے ہونگے کہ جنموں بعد یہ کون ہے جو اس عہدِ انتشاری میں مجھے یاد کر رہا ہے اور مجھ خاکسار کے نام ایک نامہ لکھ بھیج رہا ہے ۔کیا کریں، جب کبھی سوچتا ہوں تو آپ کے ساتھ وہ ناروا سلوک اور غیر انسانی واقعہ ذہن سے منہا نہیں ہو پاتا۔ جب بھی اس برعظیم کی تاریخ پر دھیان جاتا ہے تو آپ کا کردار منور ہوکر کچھ کہہ رہا ہوتا ہے کیونکہ آپ ایک انسانیت آموز طرزِ معاشرت و زندگی کو صورت پزیر کر رہے تھے لیکن اورنگ زیب نے مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جب آپ کو قتل کروانا چاہتا تھا تو اس کی وجہ سیاسی تھی کیونکہ آپ تخت و تاج کے لیے اُس کے مقابل جو ٹھہرے لیکن اُس نے آپ کو سیاست کے حوالے سے نہیں۔بلکہ مذہب کے حوالے سے مجرم قرار دیا اور علماء سے یہ فتویٰ لیاکہ آپ مذہب اسلام سے ہٹ گئے تھے اس لیے آپ مرتد ہوگئے تھے لہذا آپ کا بطور مرتد قتل کیا جائے۔سو آپ کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیا بلکہ ایک سوچ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی جس طرح بلوچی زبان کے عہدساز شاعر عطاشاد نے کہا ہے کہ !تو پہ سرانی گڑگءَ زندءِ حیالانءَ کُشئے ؟ !!پہ سندگءَ داشت کنئے پُل ءَ چہ بُو ...